احساس ،امید اور جہد مسلسل سے معاشرے کی اصلاح
قوموں کی ترقی ’’امید ‘‘کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ جب امید ختم ہوجائے توترقی کا خواب بھی صرف خواب ہی رہ جاتا ہے ۔بہتری کی امیداور جہد ِ مسلسل وہ نصب العین ہے جسے اختیار کرنے والی اقوام آج دنیا میں راج کررہی ہیں۔ویسے بھی یہ دنیا کا اصول ہے جو بویا جاتا ہے وہی کاٹنا پڑتا ہے ۔ قرآن کریم میں بھی ہماری رہنمائی کی گئی ہے کہ ’’انسان کیلئے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں جس کی وہ کوشش کرتاہے ‘ ‘۔ میں بذات خود ہمیشہ گلاس کے خالی حصہ کی نسبت بھرے ہوئے کواہمیت دینے کا قائل ہو ں چاہے اس کی مقدار کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو۔ نا امیدی وہ زہر ہے جس سے بچنے کی تلقین ہمیں بچپن میں ہی دے دی جاتی ہے کیونکہ یہ کفر (انکار) کی ہی ایک شکل ہے ۔ البتہ اصلاح کا پہلو ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور اس کی کوشش جاری رکھنی چاہئے ۔پر امیدہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اقوام اپنی اصلاح کو ترک کردیں۔
آج ایک عظیم ترقی یافتہ ملک نظر آنے والے جاپان نے جب دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کا سفر شروع کیا تو انہوں ڈاکٹر ایڈورڈ ڈیمنگ کے تجویز کردہ اصول ’’کائزن‘‘ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ۔ جس کا مطلب تھا’’ مسلسل بہتری کی کوشش یعنی Continuous Improvement‘‘۔ جاپانیوں نے بحیثیت قوم زندگی کے ہر شعبے میں اس اصول کو اپنایا ۔ کائزن اصول و ضوابط پر عمل کرکے جاپان کی ترقی میں کردار ادا کرنا کسی ایک ورکر یاآفیسر کی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ ہر ہر شعبے میں ہر ایک پر لازم تھا۔ آج جاپان کی ترقی منظم انداز میں مسلسل بہتری کے اسی اصول پر عمل کا نتیجہ ہے ۔
اب اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو صورتحال یکسر مختلف ہے ۔ ترقی کی خواہش بھلا کون نہیں رکھتا البتہ اس کے لئے اجتماعی سطح پرکوشش اور کاوش دور دور تک دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ بے حسی کے بیج سےاگنے والا نا امید ی کا پوداکبھی ترقی کا پھل نہیں دے سکتا۔ احساس زیاں وہ بنیاد ہے جس کے بلبوتے پر ہم معاشرے میں بہتری کی یہ خواہش پیدا کر سکتے ہیں، لیکن جب احساس نام کی چیز ہی نہ رہے تو پھر کیسی امید اور کیسی اصلاح ۔ ہم اجتماعی طور پر کس قدر بے حس ہوچکے ہیں یہ جاننے کیلئے زیادہ مشقت کی ضرورت نہیں۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیے معاشرہ آپ کو بے حسی کے دلد ل میں دھنسا ہوا نظر آئے گا۔ کوئی احتجاج کے نام ٹریفک جام کا سبب بن رہا ہے تو کوئی ریڑھی بان اپنے بچوں کی روزی روٹی کے نام پر مسافروں کیلئے اذیت کا سامان ہے۔ آپ گھر کے کچرے کا تھیلا تو کیا پورے محلے کا کچرا سڑک پر پھینک دیںتو کسی کی کیا مجال کہ ٹوک دے ۔بھوک کے ستا ئے ہوں یا نشے کے عادی نیم مردہ افراد سرِراہ پڑے رہیں کسی کویہ توفیق نہیں ہوتی کہ آگے بڑھ کر انسان ہونے کا ہی ثبوت دے دیں۔بجلی چوری ہو یا زمینوں پر قبضہ ، غذائی اشیاء میں ملاوٹ ہویا جعلی ادویات کا دھندا ، حقوق کے نام پر دوسروں کا استحصال ہویا میرٹ کاقتل عام کر کے حق داروںکے حق پر ڈاکہ ،خود غرضی پر مبنی زہریلے نظریات کا پرچار ہو یا دین کے نام پر دکانداری یہ سب کرنے والے ہم خود ہی تو ہیں ، ان سب کیلئے کوئی مریخ سے تو نہیں آتا۔ یہ سب کچھ اس لئے ہےکہ بحیثیت قوم بے حسی ہمارا ملی اثاثہ بن چکی ہے ۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کےدل سے احساس زیاں جاتا رہا
مزید برآں معاشرے میں جو لوگ اصلاح کا کام کرسکتے تھے وہ بھی اصلاح کی خواہش کے بجائےاقوام مغرب کے مقابل احسا س کمتری کا شکار ہوتے چلے گئے۔ معاشرے کے کارآمد دماغوں کو اس بات پر لگا دیا گیا کہ وہ ہمیں دن رات ’سوئی تک نہ بناسکنے‘ کے طعنے دے دے کر مغرب کی غلامی پر آمادہ کریں۔وہ تو بھلا ہو ریمنڈ ڈیوس ، کرنل جوز ف اور ان جیسے دیگر نا ہنجاروں کا جو پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک آکر سگنل توڑنے سے لیکر معصوم انسانوںکی جانوں تک سے کھیل جاتے ہیں اور ہمارے کالے انگریزوں کو یہ بتاتے ہیں کہ بے حسی میں ان کا مقام ہم سے کہیں آگے ہے۔وگرنہ بدیسی افکاراور مادہ پرستی کی یلغار سے پہلے کی بات ہے کہ ہم کبھی اتنے بھی بے حس نہ تھے۔ بھلا بنا احساس تحریک آزادی پاکستان اپنے منتقی انجام کو پہنچ سکتی تھی ۔ یہ احساس ہی تھا جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک علیحدہ وطن کی امید جگائی اور انہیں انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے تسلط سے نجات کیلئے جہد مسلسل پر آمادہ کیا۔ 1948ء میں کشمیر کا معرکہ ہویا 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ اسی قوم نے کیا جو آج اپنی صلاحتیوں کو پہچاننے سے قاصر ہے۔ ہم نے دنیا کو قابل ترین دماغ دئیے ۔ دنیا بھر میں ہمارے لائق باصلاحیت نوجوانوں کی مانگ ہے ۔ سائنٹفک ریسرچ، انجینئرنگ ، میڈیکل ، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور فری لانسنگ جیسے ان گنت شعبوں جدید شعبوں میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ۔ جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک باشعور قوم ہیںاور ذرا سی توجہ اور محنت سے معاشرتی اقدارکی ٹوٹ پھوٹ اور لاقانونیت کی کے بڑھتے رجحان پر قابو پاسکتے ہیں۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’آخراصلاح کی راہ میں حائل مسئلہ کیا ہے ؟‘‘ مسئلہ در اصل قانون کی عملداری ہےاور قومی سطح پر ترجیحات کا تعین ہے ۔یہ طے کرنا از حد ضروری ہے کہ قومی سظح پر معاشرتی اصلاح کا سنگ میل کیا ہو جو کہ در حقیقت ارباب اختیار اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے ۔اولین سظح پر معاشرے کی اصلاح اورقانون کی عملداری کیلئے طبقاتی نظام انصاف کا خاتمہ لازم ہے ۔ جب معاشرے کے ہر فرد کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ وہ کسی پارٹی ، ادارے یا خاندان سے ہے قانون سے بالا تر نہیں اور نہ ہی منصفین اس کے کاسہ لیس ہیں تو خود بخود معاشرے میں لاقانونیت کی حوصلہ شکنی ہوگی اورایک عام آدمی سے لے کر با اختیار تک کے اندر احساس پیدا ہوگا ۔ اس احساس کے نتیجے میں ہم اپنا محاسبہ کریں گے اورروشن مستقبل کی امید پر جہد مسلسل کا شاندار سفر شروع ہونے کا امکان ہے جس کی منزل ایک مظبوط، مستحکم اور روشن پاکستان ہوگی ۔ ان شا ء اللہ۔
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Comments
Post a Comment